اسلام آباد ( فاسٹ نیوز ) سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں پاناما عملدرآمد کیس کی چوتھی سماعت شروع ہو گئی۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق نئی دستاویزات عدالت میں پیش کر دیں۔جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ تمام دستاویزات پیش کرنے سے پہلے میڈیا میں زیر بحث رہیں.جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک خط قطری شہزادے کا ہے جب کہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے میڈیا پر اپنا کیس چلایا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا پر دستاویز میری طرف سے جاری نہیں کی گئی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے وہاں دلائل بھی دے آئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا ایک دستاویز قطری شہزادے اور ایک برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے جب کہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولیں گے تمام دستاویزات لیگل ٹیم نے ہی میڈیا کو دی ہوں گی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے متعلقہ حکام سے تصدیق کروانا تھی، مریم کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے لاتعلقی ظاہر کی جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یو اے ای کے خط پر نتائج اخذ کیے اور یو اے ای کے خط پر حسین نوازسے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا جب کہ حسین نواز کی تصدیق شدہ دستاویزات کو بھی نہیں مانا گیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے انکار کیا تھا جس پر وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی حکام کے جواب پر حسین نواز سے جرح نہیں کی اور یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خط کو دیکھ لیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جو دستاویزات دیں جے آئی ٹی نے ان کی محکمہ انصاف سے تصدیق کرائی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دبئی کی دستاویزات بارے حسین نواز سے پوچھا جانا چاہیے تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بھی حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔

سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے یو اے ای کی وزارت انصاف کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یو اے ای حکام نے گلف سٹیل ملز کے معاہدے کا ریکارڈ نہ ہونے کا جواب دیا اور 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشنز کی بھی تردید کی گئی۔ خط میں کہا گیا کہ مشینری کی منتقلی کا کسٹم ریکارڈ بھی موجود نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ یو اے ای حکام نے کہا تھا یہ مہر ہماری ہے ہی نہیں۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ غلط فہمی ہوئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز اور طارق شفیع سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہم نے نوٹری نہیں کرایا اور سب نے کہا یہ نوٹری مہر کو نہیں جانتے۔ اس کا مطلب یہ دستاویزات غلط ہیں اور یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ حسین نواز نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی۔ حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ وہ دبئی نہیں گئے پھر کس نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی اس سے تو یہ دستاویزات جعلی لگتی ہیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ حسین نواز کی جگہ کوئی اور نوٹری تصدیق کے لیے گیا تھا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں اپنا موقف ہمیں بتا دیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ یو اے ای حکام سے سنگین غلطی ہوئی ہو گی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو چاہیے تھا تمام ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کرتے اب آپ نئی دستاویزات لے آئے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ ان کے کیس پر اثرات ہوں گے یا نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 12 مئی 1988 اور 30 مئی 2016 کے دونوں نوٹری پبلک کو دبئی حکام نے جعلی قرار دیا۔ دبئی حکام نے دبئی سے اسکریپ جدہ جانے کی تردید کی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سکریپ نہیں مشینری تھی جے آئی ٹی نے غلط سوال کیے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر دبئی میں اندراج نہیں ہوتا تو دبئی کے محکمہ کسٹم کی کیا ضرورت ہے جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایک ریاست سے دوسری ریاست سامان لے جانے کا اندراج نہیں ہوتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا مشینری کی ترسیل کی دستاویزات مصدقہ ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت مہلت دے تو مصدقہ دستاویز بھی دے سکتا ہوں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دی گئی دستاویز میں میٹریل کی تفصیل شامل نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس کب سے شروع ہوا ہے آدھا حصہ بتاتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جب سوال اٹھایا جاتا ہے تو دستاویز لے آتے ہیں۔ سلمان اکرم نے کہا کہ مشینری کی منتقلی پر پہلے کسی نے شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ خلا کو وقت کے ساتھ پر کیا گیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ان دستاویز کو جے آئی ٹی رپورٹ کے جواب میں لایا گیا یہ نقطہ ہم نے نوٹ کر لیا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ ٹائی ٹینک کی دستاویز لے آئیں تاکہ ہم مان لیں۔ نجی دستاویز میں تو یہ بھی لکھا جا سکتا ہے کہ سامان ٹائی ٹینک میں گیا۔ کوئی مصدقہ دستاویز لائیں اور آپ کو لکھ کر دے دیتا ہوں کہ نتائج کی کوئی حیثیت نہیں اور حیثیت ہے تو ان کے میٹیریل کی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کے نتائج پر حملے نہ کریں اور ان کی دستاویزات کا جواب دیں جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عزیزیہ اسٹیل مل کا بینک ریکارڈ بھی موجود ہے جس پرعدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ کیا فروخت کے وقت عزیزیہ پر کوئی بقایا جات تھے جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ جو بقایا جات تھے وہ ادا کر دیئے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات کے مطابق 21 ملین ریال عزیزیہ کی فروخت کے وقت بقایا جات تھے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ دستاویزات ذرائع سے حاصل کی گئی تھیں، جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ سٹیل مل 63 ملین ریال کی بجائے 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔ 63 ملین ریال کی رقم عزیزیہ کے اکاؤنٹ میں آئی جس کا بینک ریکارڈ موجود ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ بینک ریکارڈ لے آئے ہیں تو دوسرا بھی لے آئیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ نقطہ یہ ہے کہ 63 ملین میرے اکاؤنٹ میں آئے اس سے آگے چلنا ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا عزیزیہ کے واجبات کسی دوسرے نے ادا کئے جس پر وکیل نے کہا کہ معلوم کر کے بتا سکتا ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین، عباس اور شہباز شریف کی بیٹی عزیزیہ کے حصہ دار تھے۔ جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیس کی تاریخ یہ ہے کہ خفیہ جگہوں سے ادائیگیاں ہوتی ہیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی کو چاہئے تھا کہ ان پر سوالات کرتی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیا اخبار میں اشتہار دے کر سوال پوچھتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تین حصہ دار تھے صرف حسین نواز نے عزیزیہ فروخت کی۔ کیا حسین نواز پہلے دونوں حصہ داروں کے شیئرز خرید چکے تھے۔ حسین نواز نے پاور آف اٹارنی آج تک جمع نہیں کرائی جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ میرا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک خاندانی معاملہ تھا جس کا تحریری جواب موجود نہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پہلے تو کہا گیا تھا پاور آف اٹارنی موجود ہے۔ دستاویزات سے ثابت کریں کہ باقی لوگوں کو حصہ دیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یہ سوال نہیں پوچھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی میں حسین نواز نے پاور آف اٹارنی دینے کی بات کی تھی۔ کیا پاور آف اٹارنی ہے بھی یا نہیں جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ابھی تک سامنے نہیں آیا اس کا مطلب ہے یا نہیں ہے۔ عزیزیہ کے دو حصہ دار رابعہ اور عباس شریف عدالت آ سکتے ہیں۔ دوسرے دو شراکت داروں نے عزیزیہ کی فروخت کو چیلنج نہیں کیا۔ الزام یہ ہے کہ 1993 ء میں حسن، حسین لندن فلیٹ نہیں خرید سکتے تھے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 1993 سے آج تک لندن فلیٹس میں وزیر اعظم کے بچے رہائش پذیر ہیں اس وقت تک ہم آمدن کا ذریعہ اور منی ٹریل نہیں ڈھونڈ سکے۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ لندن فلیٹس نیلسن اور نیسکول کے ہیں اس پر کوئی جھگڑا نہیں۔ نیلسن، نیسکول پہلے بئیریر سرٹیفکیٹ پھر ملکیت میں تبدیل ہوئے۔ موزیک فونسکا کے ریکارڈ پر ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں ہے۔ موزیک فونسکا کے مطابق مریم نواز فلیٹس کی مالک ہیں جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الزام مریم نواز کے مالک ہونے کا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ الزام نہیں دستاویز کے مطابق حقیقت ہے کیونکہ موزیک فونسکا کے مطابق مریم فلیٹس کی مالک ہیں۔ سلمان اکرم نے کہا کہ ان کا کہنا ہے مریم مالک ہیں اور ہمارا کہنا ہے حسین مالک ہے فرق تو نہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بہت فرق ہے اگر مریم مالک ہے تو پھر ہم فنڈز کو بھی دیکھیں گے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ تو حسین کے معاملہ میں بھی فنڈز دیکھے جائیں گے جس پرجسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ 93 میں بچوں کی عمریں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلیٹ خرید نہیں سکتے۔ الزام ہے کہ فلیٹ وزیراعظم نے خریدے اور درخواست گزار کہتے ہیں کہ وزیر عظم فنڈز بتائیں۔

جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس دیئے کہ پوچھتے ہیں ہم پر الزام کیا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ (نائین اے فائیو) کا الزام ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ کرپشن اور کرپٹ پریکٹس جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ الزام یہ ہے کہ بچے بے نامی دار ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اگر نواز شریف کے بچے ثابت کر دیں انھوں نے اپنی کمائی سے لندن فلیٹس خریدے تو وزیراعظم بچ جائیں گے اگر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو وزیر اعظم کو نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ نواز شریف کو اپنے اور بچوں کے اثاثے ظاہر آمدن کے مطابق ہونے سے متعلق ثابت کرنا پڑے گا۔

سماعت کے تیسرے روز کی تفصیل اور دلائل

وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے تیسری سماعت کے دوران اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی کو وزیراعظم نے اپنے اثاثوں کی تفصیل پیش کی۔ وزیر اعظم کے ڈکلیئرڈ اثاثوں کے علاوہ کوئی اثاثہ نہیں اور نیب قوانین کے مطابق ایسا شخص جس کے بیوی بچوں کے نام اثاثے ہوں اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ کسی منسلک شخص کے اثاثوں سے فائدہ اٹھانے والا ملزم نہیں ہو سکتا۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں آمدن اور اثاثوں کے ذرائع کا تذکرہ ہے اور اثاثے جس کے زیر استعمال ہوں وہ بھی بے نامی دار ہو سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ لندن فلیٹس کی خریداری کیلئے فنڈز کہاں سے آئے یہ سوال اب بھی حل طلب ہے۔ لندن فلیٹس کی خریداری کا ذریعہ کیا تھا؟۔ التوفیق بینک آف لندن کیس کا فیصلہ پہلے لیکن فلیٹ کی ملکیت 2006 میں تسلیم کی گئی ایسے سوالات کے جوابات میں تضاد ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ 1993 میں دیکھنا ہو گا بچے کس کے زیر کفالت تھے اگر بچے دادا کے زیر کفالت تھے تو میں کیوں جواب دوں۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ التوفیق بنک لندن قرض کیس سے نواز شریف کے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں اگر نواز شریف لندن فلیٹس کے مالک نہیں تو دستاویزات کیسے دیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ جے آئی ٹی کا لندن فلیٹس کو شریف خاندان کی مشترکہ ملکیت قرار دینے کے ثبوتوں کا جائزہ لیں گے ہم مسلسل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ حسین نواز نے لندن فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی لیکن دستاویزات پیش نہیں کیں۔ لندن فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو نواز شریف کو بھی حصہ ملا ہو گا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دئیے تھے کہ لندن فلیٹس کس کی ملکیت ہیں ہم پوچھ، پوچھ کر تھک گئے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ہل میٹل سے نواز شریف کو 80 فیصد فائدہ ملا۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ہل میٹل سے متعلق حسن اور حسین نواز کے وکلا دلائل دیں گے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا شہرت ایسی ہونی چاہیے جس کے بعد کسی وضاحت یا شک و شبہے کے ضرورت نہ پڑے۔

اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل ایڈووکیٹ طارق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا اسحاق ڈار کھلی کتاب کی مانند ہیں ان پر کوئی الزام نہیں۔ اسحاق ڈار پر تمام الزامات ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے سے متعلق ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسحاق ڈار پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار پر ظاہر آمدن سے سے زائد اثاثے رکھنے کا بھی الزام ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار سے متعلق سفارشات بھی دی ہیں۔

وکیل اسحاق ڈار نے اپنے دلائل میں کہا کہ میرے موکل نے اپنا اور اہلیہ کا 1995 سے 2017 تک کا ریکارڈ جمع کروایا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اب کوئی خط و کتابت بنا کر نہ لے آیئے گا۔ جے آئی ٹی کے مواد پر فیصلہ کریں گے یہ واضح رکھیں جس پر طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کو بروقت تمام ریکارڈ فراہم کر دیا تھا اور دستاویزات رات آٹھ بجے نیب سے لے کر دیئے تھے۔ جے آئی ٹی نے تعریف پر مبنی خط بھی دیا تھا جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ دو دن پہلے ریکارڈ دینے پر تعریف کیسے ہو گئی اگر ریکارڈ نیب نے واپس کیا تو ریکوری میمو ضرور بنایا ہو گا۔ نیب نے اصل ریکارڈ دیا یا فوٹو کاپی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب سے ریکارڈ لے کر ایف بی آر کو دیا گیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا 95 فیصد ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔ کیا نیب نے تسلیم کیا کہ دستاویزات انہوں نے دیں۔ کوئی خط و کتابت ہے تو سامنے لائیں کیونکہ ایف بی آر نے پہلے کہا کہ ریکارڈ ٹریس نہیں ہو رہا پھر اچانک ریکارڈ ملا اور نیب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ کیا آپ نے ریکارڈ اعتراضات کے ساتھ جمع کرایا۔ عدالت کو تو کم ازکم ریکارڈ فراہم کیا جانا چاہیے تھا یا عدالت کو صرف آڈٹ رپورٹس دی گئیں۔

طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کو کیس میں گھسیٹنے کی کوشش کی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسحاق ڈار کا کنکشن آپ کو میں بتا دیتا ہوں۔ گلف سٹیل مل میں اسحاق ڈار کے بیٹے کے نام ٹرانزیکشنز ہیں اور ہل مٹیل کمپنی کے ساتھ اسحاق ڈار کا کنکشن موجود ہے۔ اسحاق ڈار نے بیان حلفی کے ساتھ معافی بھی مانگی۔ اس بیان حلفی کے ذریعے کئی ٹرانزیکشنز کا علم ہوا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار ملزم تھے اور مبینہ طور پر اعترافی بیان دیا اور مبینہ اعترافی بیان کی بنیاد پر اسحاق ڈار کو معافی ملی۔ اس پر طارق حسن نے کہا کہ اعترافی بیان دوران حراست لیا گیا تھا جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار بعد میں مبینہ اعترافی بیان سے منحرف ہو گئے جب ریفرنس خارج ہوا تب اسحاق ڈار نہ فریق تھے نہ ملزم۔

طارق حسن نے کہا کہ وہ معاملہ ختم ہو چکا ہے دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا اس نکتے پر میری تیاری بھی نہیں ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ ملزم نہیں ہیں آپ ماضی کی ٹرانزیکشن پر گواہ ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ آپ جے آئی ٹی کے لیے عدالت کے حکم کو پڑھ لیں۔ جے آئی ٹی کو ہر طرح کا ریکارڈ حاصل کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا اور تمام ادارے اسکے ساتھ تعاون کے پابند بنائے گئے تھے۔ اسحاق ڈار کا بطور شریک ملزم حدیبیہ پیپر ملز کیس ٹرائل نہیں ہوا اور اسحاق ڈار عدالت سے بری نہیں ہوئے کیونکہ اسحاق ڈار حدیبیہ کیس میں شریک ملزم سے وعدہ معاف گواہ بنے۔

طارق حسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاناما کیس کے عبوری فیصلے میں اسحاق ڈار کے خلاف کچھ نہیں کہا گیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ دیکھیں درخواست میں اسحاق ڈار کے خلاف ریلیف کیا مانگا گیا اس وقت نااہل نہیں کر سکتے تھے اس لیے ہم نے مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنائی۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

سماعت کے دوسرے روز کی تفصیل اور خواجہ حارث کے دلائل

سماعت کے دوسرے روز وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کا 20 اپریل کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور جے آئی ٹی کے مینڈیٹ کا معاملہ اٹھایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی نے 13 سوالات کے ساتھ مزید 2 سوالات اٹھا دیئے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں جائیدادوں کی نشاندہی جے آئی ٹی کا مینڈیٹ نہیں تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اپنے مرتب سوالوں کے جواب دیکھنے ہیں ہم جے آئی ٹی کی سفارشات کے پابند نہیں اور جے آئی ٹی نے جو بہتر سمجھا اسکی سفارش کر دی جبکہ سفارش پر عمل کرنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ابھی عدالت نے فیصلہ نہیں کیا لیکن وہ جے آئی ٹی کی کارکردگی بتا رہے ہیں۔ ہماری درخواست قانونی نکات پر ہے اور جے آئی ٹی کی رائے کی قانون میں کوئی نذیر نہیں ملتی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کی بات سمجھ کر ہم نے نوٹ کر لی ہے۔ آپ نے اپنے جواب میں دستاویزات کی تردید نہیں کی اور لندن فلیٹس کی انکوائری کی منظوری 17 سال پہلے بھی ہوئی تھی۔ 2000 سے 2008 تک آپ کے موکل ملک سے باہر تھے۔

جسٹس اعجاز افضل نےاپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں فریقین کے تمام اثاثوں کی چھان بین نہیں ہو سکتی۔ انکوائری کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور عدالت فیصلہ اس وقت کرتی ہے جب حقائق غیر متنازع ہوں۔

جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا تھا حدیبیہ کو شامل کرنا ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے اس مرحلہ پر رپورٹ کے کسی حصہ پر فیصلہ نہیں دے سکتے۔ سماعت کے دوران خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایف زیڈ ای کے چیئرمین نواز شریف اور مالک حسن نواز ہیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ہل میٹل سے رقم آئی لیکن اس کو سیاست میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنے دلائل میں کہا ایف زیڈ ای کی ملکیت جے آئی ٹی کو پوچھنا چاہیے تھی جبکہ وزیراعظم نے ایف زیڈ ای کی بنیاد پر اقامہ 2012 میں لیا تھا۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا جے آئی ٹی نے نہیں پوچھا تو ہم پوچھ رہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ ان کے اوپر یہ الزام غلط ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جی ہاں یہ الزام غلط ہے اور کاغذات بھی یہی کہتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے دبئی میں کام کرنے کے لیے اقامہ تو لیا تھا نا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے تھے کہ رپورٹ کی جلد نمبر 10 میں لکھا ہے کہ کتنی قانونی معاونت آئی ہے کتنی نہیں ہمیں نہیں معلوم کہ وہ سربمہرکیوں ہے۔ اگر آپ اصرار کریں تو اسے بھی کھولا جا سکتا ہے۔ آپ جب چاہیں متفرق درخواست میں دستاویزات کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے نجی فرم سے دستاویزات حاصل کیں جو مصدقہ نہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا مطلب ہے کہ یہ دستاویز باہمی قانونی تعاون سے حاصل نہیں کی گئیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ قانون سورس دستاویز کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا صرف ذرائع سے حاصل ہونے والی دستاویز پر شک کر سکتے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ دستاویز اگر وزارت خارجہ کے ذریعے حاصل ہوتی تو قابل قبول اور مصدقہ ہوتیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اب برطانیہ میں ملکہ کو تو چٹھی نہیں لکھیں گے نا۔

خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کو حاصل ہونے والے دستاویزات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے کسی غیر ملکی حکومت سے براہ راست قانونی مدد نہیں لی بلکہ دستاویزات کا حصول نجی فرم کے ذریعے کیا حالانکہ دستاویزات کو متعلقہ حکومت کے ذریعے ہی ارسال کیا جانا ضروری ہے۔ غیر ملکی حکومت کو ہی دستاویزات کے لیے درخواست کی جا سکتی ہے اور تصدیق کے بغیر کوئی دستاویز قابل قبول نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا تھا کہ نیب قوانین کے مطابق حکومت کے زیر اثر ادارے اور افراد ہی حکومت کے زمرے میں آتے ہیں۔ دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں۔ کیا ہم صرف اس بنیاد پر دستاویزات کو تسلیم نہ کریں کہ حکومت نے نہیں دیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ قانونی معاونت افراد نہیں ریاستی اداروں کے درمیان ہوتی ہے اور وفاقی حکومت یا حکومت کا نامزد ادارہ قانونی معاونت کا معاہدہ کر سکتا ہے اور قانونی معاونت کے معاہدے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے تھے کہ دستاویزات اصل ہوں تو سفارت خانے کی تصدیق کی ضرورت نہیں وہ الگ بات ہے آپ اعتراض کر دیں کہ فلاں دستاویز متعلقہ ادارے سے نہیں لی گئی۔ عدالت کو دیکھنا تھا کہ منروا کے ساتھ معاہدہ کس نے کیا۔ یہ دستاویز آج تک کسی نے پیش نہیں کی۔ مالک کے بغیر پیش کردہ ٹرسٹ ڈیڈ کی کوئی حیثیت نہیں اور جے آئی ٹی کو تمام دستاویزات نواز شریف کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھیں۔ اس کے لیے انہیں جے آئی ٹی سے پہلے عدالت میں بھی موقع دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ رپورٹ میں مزید بہت کچھ سامنے آ گیا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ تمام دستاویزات نواز شریف کے سامنے پیش کرنا چاہیں تھیں لیکن جے آئی ٹی نے تو ایسا موقع دیا ہی نہیں۔ وزیراعظم سے متعلقہ رپورٹ میں لکھے گئے ایک پیرا کا بھی تحقیقات میں نہیں پوچھا گیا۔

خواجہ حارث کی بات پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہاں سے ہی مسائل شروع ہوتے ہیں حسین نواز کے مالک ہونے کی ایک دستاویز بھی پیش نہیں ہوئی۔ عدالت نے شریف فیملی کے وکلاء کے دلائل سے مطمئن نہ ہونے پر جے آئی ٹی بنائی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال نہیں کیا گیا تو روکا بھی نہیں گیا۔ 60 روز دیکر مکمل موقع دیا اور پہلے وزیر اعظم نے کہا دستاویز ہیں پھر کہا نہیں ہیں۔ وزیر اعظم عدالت نہیں تو جے آئی ٹی کو ہی ریکارڈ دے دیتے۔ 20 اپریل کا حکم نامہ عبوری تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا جے آئی ٹی رپورٹ اور شواہد کے جائزے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ معاملہ نیب کو بھیجوانا ہے یا نااہلی سے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ہے کیونکہ اثاثوں اور آمدن کی دستاویز آپ نے دینا تھیں۔ وزیراعظم کا کام تھا کہ لندن فلیٹس کی خریداری کے ذرائع بتاتے لیکن آپ کا زور صرف اس پر ہے کہ جے آئی ٹی نے یہ دستاویز نہیں دکھائی وہ نہیں دکھائی۔ لندن فلیٹس کی خریداری کے وقت بچوں کی آمدنی نہیں تھی اور وزیراعظم نے تقریر میں کہا تھا ذرائع اور وسائل کا ریکارڈ موجود ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ وزیراعظم کے اثاثے آمدن سے زیادہ تھے تو جے آئی ٹی بتاتی رپورٹ میں شامل چیزوں پر جے آئی ٹی نے ہم سے نہیں پوچھا۔ دستاویزات پر جے آئی ٹی نے جرح نہیں کی اور جرح کے بغیر تمام رپورٹ یکطرفہ ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ٹرائل شفاف نہیں ہو سکتا۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک سال سے پوچھ رہی ہے اب بتا دیں۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ جس کی جائیداد ہو ثابت اسی کو کرنا ہوتی ہے۔ شریف خاندان کے وکلاء کے دلائل بھی جے آئی ٹی کی وجہ بنے اور جے آئی ٹی کی فائنڈنگ نہیں بلکہ سامنے آنے والا مواد اہمیت کا حامل ہے۔

پہلے روز کی سماعت کی تفصیل

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل

پہلے روز سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی جبکہ جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد اپنی پیش رفت رپورٹ عمل درآمد بینچ کے سامنے جمع کراتی رہی۔ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے اپنے حتمی رپورٹ جمع کرائی۔ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔

نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا تھا جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی اور گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہیں کر سکا جبکہ گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی۔ جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کو غلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا ہے۔ اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد کو بھی نوٹ کیا تھا۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا جبکہ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا۔ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلبی کے لیے چار خط لکھے جبکہ جے آئی ٹی نے رپورٹ میں کہا کہ قطری شہزادہ پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں اس کے علاوہ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط و کتابت کی اور جے آئی ٹی نے اس خط و کتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں کیونکہ تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے۔ ٹرسٹی ہونے کے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے۔ بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں اور فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔

حدیبیہ پیپر کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ حدیبیہ کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا۔ حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سر بمہر ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے اور انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں۔ ان کا بیان تضاد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا اور قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

عمران خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف کے پاس سعودی عرب میں واقع عزیزیہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا۔ عزیزیہ اسٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے۔ اس کی فروخت کی دستاویزات پیش نہیں کیں لیکن جےآئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ مل 63 نہیں 42 ملین ریال میں فروخت ہوئی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایف زیڈ ای نامی کمپنی نواز شریف کی ہے۔ حسین نواز کے مطابق ایف زیڈ ای کمپنی 2014 میں ختم کر دی گئی۔ نواز شریف ایف زیڈ ای کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین تھے۔ عدالت نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایف زیڈ ای کی دستاویزات جے آئی ٹی کو قانونی معاونت کے تحت ملیں یا ذرائع سے جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ کمپنی کی دستاویزات قانونی معاونت کے تحت آئیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات تصدیق شدہ نہیں ہیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ دستاویزات درست ہیں صرف دستخط شدہ نہیں۔ کمپنی نے نواز شریف کا متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی اور برطانوی حکام کو 7 ،7 خطوط لکھے اس کے علاوہ سعودی عرب کو بھی ایک خط لکھا لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔ یو اے ای حکومت کو لکھے گئے خطوط رپورٹ کی جلد نمبر 10 میں ہوں گے جو ظاہر نہیں کی گئی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ضرورت محسوس ہوئی تو والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ شریف خاندان کے پاس آمدن سے زائد اثاثے ہیں اور نواز شریف کے اثاثے بھی ان کی آمدن سے زائد ثابت ہوئے جس کا ذکر جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ آمدن سے زائد اثاثے ہونے کے کیا نتائج ہوں گے جس پر نعیم بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے عدالت سے نواز شریف کی نااہلی کا ڈیکلریشن مانگا ہے اور نواز شریف کے خلاف نیب کا مقدمہ بھی بنتا ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کے دلائل

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے کیونکہ نواز شریف نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا تھا ۔ جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیئے۔ نواز شریف نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری کا علم ہے مگر کچھ یاد نہیں اور نواز شریف نے اپنے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کے پابند نہیں آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں۔ بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کر سکتے ہیں جس پر توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیر اعظم کی نااہلی کے لیے کافی مواد ہے۔

نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سے عدالت کو آگاہ کر چکے ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسے درست تسلیم کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہو گیا۔

شیخ رشید کے دلائل

کیس کے تیسرے مدعی شیخ رشید نے پاناما کیس میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا نواز شریف ایک کمپنی کے ملازم نکلے جس سے پوری قوم کی ناک کٹ گئی۔ نواز شریف کے بچے حمید مستری کے بیٹے نہیں ایٹمی ملک کے وزیراعظم کے بچے ہیں۔

انہوں نے کہا شریف خاندان نے بے نامی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں اور مریم نواز بینیفیشل مالک ثابت ہو گئی ہیں کیونکہ جس عمر میں شناختی کارڈ نہیں بنتے ان کے بچے 8 کروڑ روپے کما لیے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کا خاکروب اٹھارہ ہزار ٹیکس دیتا ہے اور ملک کا وزیراعظم صرف 5 ہزار ٹیکس دیتا ہے۔ شیخ رشید کے دلائل پر کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں بکھر گئیں تھیں۔

شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اعتراضات

پہلے روز کی سماعت سے قبل شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کرائے تھے۔ شریف خاندان نے اپنے اعتراضات میں موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی کوعدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ جے آئی ٹی جانبدار تھی اور اس نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ اس لیے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔

واضح رہے جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی۔ 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں نواز شریف سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات اور اس سے متعلق شواہد سامنے لائے گئے

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s