فاسٹ نیوز : مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کم اور جن آئی ٹی زیادہ تھی جب کہ جناتی انکوائری کے بعد بھی نواز شریف کے دامن پر داغ نہیں لگا سکے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عوامی رائے یہی ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی انکوائری ٹیم جے آئی ٹی تھی یا جن آئی ٹی، تاہم جن سازشیں تو کرسکتا ہے لیکن حکومت ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

وزیرقانون پنجاب کا کہنا تھا کہ دھرنوں کے دوران جو کچھ کہا گیا وہ سب پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ہے، اتنے بڑے ٹرائل کے بعد بھی جے آئی ٹی کو کسی منصوبے سے کرپشن کا ثبوت نہیں ملا۔

رانا ثنااللہ نے کہا لگتا نہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سپریم کورٹ کے 13 سوالوں کا جواب دیا گیا ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اس رپورٹ کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے اور عدالت سے بھی استدعا کریں گے کہ اس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص 1990 میں لیکچرار تھا اور اب وہ ارب پتی ہے جب کہ دوسرا شخص 1990 میں بینک میں ملازم تھا وہ بھی ارب پتی ہے، سیاست میں کچھ چیزیں پارٹ آف دی گیم ہوتی ہیں، طاہرالقادری بھی اسی وقت آتے ہیں اور مطالبے بھی اسی وقت کرتے ہیں۔

وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ اس ملک کو ترقی کرنے دینا چاہیے، صرف ایک آدمی کو ہٹانے کی  کوششیں  کامیاب نہیں ہوں گی، ماضی میں بھی ایک آدمی کو پھانسی دی گئی لیکن کسی نے اسے نہیں مانا۔

رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ نواز شریف 36 سال کے دوران مختلف اعلیٰ عہدوں پر رہے اور انہوں نے اربوں کھربوں کے منصوبے مکمل کرائے لیکن اس کے باوجود ان پر ایک پائی کی کرپشن کا الزام نہیں لگا۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کیا پورا پنجاب نواز شریف پر اظہار اعتماد کرتا ہے، قوم مسترد کرے گی تو نوازشریف کسی کے کہے بغیر گھر چلے جائیں گے

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s