فاسٹ نیوز : کراچی میں سندھ اسمبلی کے حلقہ 114میں ضمنی انتخاب کے دوران محمود آباد میں ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلزپارٹی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی۔ رینجرز نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی کو چنیسر گوٹھ کے ایک پولنگ اسٹیشن میں داخلے سے روک دیا، پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے متاثر ہوا۔

پی ایس 114 میں ضمنی انتخاب کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، ہر پولنگ بوتھ پر رینجرز تعینات ہیں جبکہ دفعہ144کے تحت پولنگ عملے سے موبائل فون لے لیے گئے۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی کا کہنا ہے کہ کشیدگی پھیلا کر پولنگ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ووٹ ضرور پڑنے چاہئیں، ٹھپے نہیں لگنے چاہئیں۔

ایم کیوایم پاکستان کے رؤف صدیقی نے کہا کہ عام انتخابات میں اس حلقے میں بہت مارکٹائی ہوئی تھی،اس بار تو سیاسی جماعتیں ووٹ کے لیے ہاتھ جوڑ رہی ہیں۔

کراچی کے حلقہ پی ایس114میں ضمنی انتخاب میں متحدہ، پیپلزپارٹی، ن لیگ ،تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اُمیدوار میدان میں ہیں۔

کراچی کی بدلتی ہوئی سیاست میں کس کا پلڑا بھاری ہے؟اس کا فیصلہ آج ہوجائے گا۔

کیا ایم کیو ایم ملیر کی شکست کے بعداس حلقے میں جیت پائے گی؟ یا پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی حلقے کی سیاست تبدیل کر دیں گے، کیا تحریک انصاف عرفان اللہ مروت کی مدد سے انتخاب جیت لے گی؟ یا مسلم لیگ ن اپنی سیٹ بچا لے گی؟، اس کا جواب آج مل جائے گا۔

ن لیگ کی خالی کردہ نشست پرمتحدہ قومی موومنٹ ،پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس۔114 میں پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

حلقہ پی ایس 114میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد1 لاکھ 93 ہزار ہے جبکہ کل 92 پولنگ اسٹیشنزقائم کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ضمنی الیکشن کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے رینجرز کے دو ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ اہلکار تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات ہیں جبکہ رینجرز کے موٹر سائیکل سوار اہلکار بھی علاقے میں گشت کررہے ہیں۔

ڈی جی رینجرز نے حلقہ 114کا دورہ کیا، اس موقع پر میجر جنرل محمد سعید کا کہنا تھا کہ شہری بلا خوف اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں ۔

ادھر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب کے موقع پر دفعہ 144پر عملدر آمد کو یقینی اور حساس پولنگ اسٹیشنز کے اطراف میں اسنیپ چیکنگ کو مربوط بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ کے اختتام تک متعلقہ ایس ایچ اوز علاقوں میں موجود رہیں گے، حساس پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کمانڈوز کو خصوصی ذمےداریاں دی جائیں اور رائے دہندگان، شہریوں اور اُمیدواروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s