فاسٹ نیوز : دنیا بھر میں سیلفی کا بخار سب کے سروں پر چڑھا ہوا ہے لیکن اس شوق کو پورا کرنے کے لیے کچھ لوگ خطرناک حد تک جاتے ہیں جس سے اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں اور اسی کوششوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بھارت میں ہوئیں۔

انٹرنیٹ صارفین اپنی بہترین انفرادی یا اجتماعی تصاویر کھینچ کر فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام سمیت سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر اپ لوڈ کرتے ہیں اور لوگوں سے لائکس اورشیئرز کی شکل میں خوب واہ واہ شکل وصول کرتے ہیں۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق امریکی حکومت کے جاری کردہ اعداد شمار میں بتا گیا کہ مارچ 2014 سے ستمبر 2016 تک سیلفی لیتے ہوئے مجموعی طور پر 127 افراد ہلاک ہوئے جن میں سب سے زیادہ 76 ہلاکتیں بھارت میں ہوئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں بھارت میں 33 ہزار افراد ڈرائیونگ کے دوران سیلفی لیتے ہوئے زخمی ہوئے۔

امریکا کی کارنیگی میلن یونیورسٹی اور بھارتی جامعہ اندرا پراستھا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن دہلی کے محقیقین نے می مائی سیلف اینڈ مائی سیلفی کے نام سے مشترکہ طور پر یہ تحقیق کی ہے۔

2013 میں آکسفورڈ ڈکشنری نے سیلفی کو سال کا لفظ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق لوگ مقدس مقامات پر بھی عبادت میں دل لگانے اور توجہ مرکوز کرنے کی بجائے سیلفی کھینچنے میں مصروف رہتے ہیں۔

جب کہ زیادہ سے زیادہ لائکس اور شیئرز کے حصول کے لیے خطرناک مقامات پر بھی سیلفی لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہے

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s