فاسٹ نیوز : ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ وزیراعظم فائنل اتھارٹی ہیں اور ان کے احکامات پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

ڈان لیکس معاملہ ‘حل’ ہونے کے کچھ ہی دیر کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اپریل 29 کو کی جانے والی ٹوئٹ کے دن سے لے کر آج تک حکومت اور فوج کو آمنے سامنے رکھا گیا۔ ‘پریس ریلیز کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ افسوسناک تھا۔’

یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے 29 اپریل کو ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کانوٹیفکیشن انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے اس لئے یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔

بدھ (آج) کو پریس کانفرنس میں ٹوئٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک نامکمل معاملہ اب حل ہو گیا ہے۔ ٹوئٹس روابط کا تیز ترین ذریعہ اور یہ پریس ریلیز کی طرح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پریس ریلیز حکومتی شخصیت یا ادارے کے خلاف نہیں تھی بلکہ ہماری سمجھ کے مطابق وزارت داخلہ سے حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم حکومت کی جانب سے انکوائری کمیٹی کی پیرا 18 میں بیان کی گئی تجاویز پر عملدرآمد اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے معاملے کے حل کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج ریاست کا مضبوط ادارہ ہے اور وہ ہر پاکستانی کی طرح آئین، جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔

اس سے قبل، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر نے ایک پریس ریلیز میں ڈان لیکس سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کیے جانے کی اپنی ٹویٹ کو واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اب حل ہو گیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 29 اپریل کی ٹوئٹ کا ہدف کوئی سرکاری شخصیت یا دفتر نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کی حیثیت سے باقی اداروں کی طرح ملک کے لیے کام کرتے رہیں گے، ایسا کچھ نہیں تھا کہ جمہوریت کے خلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہے۔

افغان فورسز کی جانب سے چمن بارڈر پر کی جانے والی فائرنگ کے واقعے پر آصف غفور کا کہنا ہے کہ چمن سرحد پر دو منقسم گاؤں ہیں، اس گاؤں کا آدھا حصہ افغانستان اور آدھا پاکستان میں ہے، مردم شماری کے وقت ہم نے بتایا کہ پاکستان کےحصے میں مردم شماری کر رہے ہیں،افغانستان کی جانب سے ہماری طرف فائرنگ کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب ہماری طرف فائرنگ کی گئی توخود کا دفاع کرنے کے لیے بھرپور جواب دینا پڑا، ہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان کو ایسا جواب دیا کہ ان کونقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے الزام لگایا کہ بھارتی فوجیوں کو مارا اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، پاکستانی فوج پیشہ ورانہ فوج ہے، کئی واقعات میں بھول کر آنے والےفوجیوں کو واپس بھیجا، اگر پاک فوج کو لاشوں کی بے حرمتی کرناہوتی تو بھارتی فوجیوں کو واپس نہ بھیجا جاتا۔

ایم بی بی ایس کی طالبہ نورین لغاری کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 19 سالہ بچی نورین لغاری کو لاہور سے بازیاب کرایا گیا،وہ دہشت گرد نہیں تھی، دہشت گرد بننے جارہی تھی،اس کی ذہن سازی کی گئی اور وقت پر اسے بچا لیا، اگر نورین میری یا آپ کی بیٹی ہو اور دہشت گردوں سے بچالیں تو کیا ہم اسے دہشت گرد کی طرح سزا دیں یا وہ باہر جا کر بتائے کہ مجھے کس طرح دہشت گردوں نے ورغلایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان کااعتراف جرم پیش کرنے کا مقصد تھا کہ عوام کو پتا چلے کہ یہ کس طرح پاکستان کے خلاف استعمال ہوئے،اسے ہیرو بنا کر پیش نہیں کیا جا رہا، قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

بھارتی جاسوسو کلبھوشن کے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزا سنائی ہے،بھارت کی آئی سی جے میں اپیل پر دفترخارجہ جواب دے گا، ملٹری کورٹ کے فیصلے پر فوج کے اندر پراسیس جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوطرفہ فائرنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف جانی نقصان ہوتا ہے، دوہمسایہ ممالک جن کے تعلقات اچھے ہیں اور اچھے ہوں گے،چمن واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، افغانستان سے کہا ہے کہ سرحدی امور کے معاملے پر آگے بڑھنا ہوگا، ایران سے بہت اچھے تعلقات ہیں،ایرانی آرمی چیف کے بیان پر دفترخارجہ نے جواب دے دیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ گزشتہ دس پندرہ سال کے درمیان پاکستان مشکل دورسے گزرا، اب پاکستان مشکل دور سے اچھے دور کی طرف جا رہا ہے،دس بارہ سال میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو آگے لے کر جانا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ کرکٹ کے ذریعے بات سمجھاتے ہیں،ہم اس وقت سترہویں اوورمیں ہیں، اپنی اننگز بہت اچھی کھیلی ہے،اگر 19ویں اوور میں ہمارے اوپر دباؤ آجائے اور بیسویں اوور میں میچ جیتنا مشکل ہو جائے تو شروع کے اوورز کی محنت ضائع ہوجائے گی،گیند مشکل آسکتی ہے لیکن اگر جذبہ جیتنے کا ہے تو جیت ہوتی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s