فاسٹ نیوز :

وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی حیدرآباد موٹروے کے 75 کلومیٹر ٹریک کا افتتاح کر دیا۔وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ طیاروں اور ہیلی کاپٹر پر سیر کرنے والے سڑک کی اہمیت کیا جانیں، آج لوگ اپنی آنکھوں سے ایک نیا پاکستان تعمیر ہوتا دیکھ رہے ہیں،ان شاء اللہ 2018 تک تمام وعدے پورے ہوں گے۔

وزیر اعظم نواز شریف منصوبے کا افتتاح کرنے جامشورو کے علاقے نوری آباد پہنچے۔افتتاحی تقریب میںگورنر سندھ محمد زبیر اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ تعمیراتی کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن،نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اعلیٰ حکام،صنعتکار، وفاقی وزیر احسن اقبال سمیت دیگر پارٹی کے مقامی رہنما ؤںنے بھی شرکت کی۔

اس موقع پروزیراعظم ، گورنراور وزیراعلیٰ سندھ نے مل کر تختی کی نقاب کشائی کی۔وزیراعظم نوازشریف نے موٹر وے کے تکمیل شدہ حصے پر سفر کیا۔

تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اسی زاد راہ کے ساتھ تعمیر پاکستان کے سفر کا آغاز کیا،ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا،نوجوانوں کے جذبات سے کھیلنا آسان تھا۔ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے مفادات کے لیے نوجوانوں کے جذبات سے کھیلتےہیں،ہمیں اپنی نئی نسل کو ایسے عناصر سے بچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج اللہ کے شکر سے معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہورہی ہے،معیشت کے استحکام کے لیے مضبوط انفرا اسٹرکچر ضروری ہے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے نے کئی مراحل طے کرلیے ہیں،کراچی حیدرآباد موٹر وے جلد مکمل کرلی جائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس ملک کے عوام کو سڑکوں کی ضرورت ہے،لاکھوں پختونوں سے اس موٹروے کی اہمیت پوچھیں،پنجاب کے کسانوں، بلوچ عوام سے اس کی اہمیت پوچھیں،ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹر پر سیر کرنے والے کبھی سڑک پر اتر کر دیکھیں،اس کے لیے عوام سے تعلق چاہیے ہوتا ہے۔

انہوں نے کراچی والوں کویہاں آکرسیر کرنے ،ریسٹ ایریا زمیں چائےپینے اورکھانا کھانے کی دعوت دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سکھر سے ملتان موٹر وے اور آگے لاہور پر تعمیر کا کام جاری ہے،2019 تک ان شاء اللہ یہ موٹرویز مکمل ہوجائیں گی،کراچی سے پشاور تک 6 لین کی موٹروے ہوگی۔نوے کی دہائی میں جو کام شروع کیا تھا وہ جاری رہتا تو چپے چپے پر موٹروے ہوتی۔

وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان کی ترقی کے بارے میں اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ صبح گوادر میں ناشتہ کریں اور کوئٹہ میں دوپہر کا کھانا کھاسکتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں بلوچستان کی تبدیلی ساری دنیا کو نظر آنی چاہیے۔تعمیر مکمل ہونے سے گوادر کی بندرگاہ چین سے جڑ جائے گی۔جامشورو سے سیہون 26 کلومیٹر طویل ہائی وے دو رویہ بنائی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ہائی وے کی تعمیر وفاق اور سندھ حکومت مل کر کریں گے۔2018 میں پاکستان کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔بجلی پاکستان میں نہیں تھی، اسے ہم واپس لائے ہیں۔کوئلے اور گیس سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے لگارہے ہیں،پاکستان میں ہائیڈرو پاور اور ونڈ انرجی کے منصوبے لگائے جارہے ہیں۔بھاشا ڈیم پاکستان کے زرعی شعبے کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

نواز شریف نے خطاب میں مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں،قوم جانتی ہے کون دھرنے والے ہیں اور کون ترقی والے۔لوگ آتے جاتے رہتے ہیں،ہمیں اپنے ملک کے بارے میں سوچنا ہے۔وسائل کم اور پاکستان کی ضرورتیں بہت زیادہ ہیں۔سڑک ترقی کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر سے نکلنے والا کوئلہ پاکستان کا مستقبل ہے،مجھے امید ہے تھر سے نکلے کوئلے سے سستی بجلی بنے گی۔

اس موقع پرڈی جی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ ایم 9 موٹر وے علاقائی اور معاشرتی ترقی کی شہ رگ ہے،موٹروے کا مکمل حصہ ڈی ایچ اے سٹی سے شروع ہوگا۔سیکشن ٹو کوٹری انٹرچینج پر جاکر ختم ہوگا جو15 مارچ تک مکمل ہوجائے گا۔تیسرا سیکشن ڈی ایچ اے سٹی سے دنبہ گوٹھ تک جولائی تک مکمل کرلیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی حالات اور دیگر چیلنجز کے باوجود منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے۔کراچی کے لیے 260 ملین یومیہ پانی کے منصوبے پر کام جاری ہے،ان شاء اللہ اگلی گرمیوں میں کراچی والوں کو پانی ملنا شروع ہوجائے گا

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s